وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ اگلے 2 ہفتے مزید سخت لاک ڈاؤن کیا جائے گا، یہ سمجھنا غلط ہے کہ ملک میں کورونا کیسز کی شرح دوسرے ملکوں سے کم ہے۔
کراچی میں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبے میں ٹیسٹنگ کی استعداد 1500 تک لے آئے ہیں، تاہم 10 فیصد کورونا پازیٹو آ رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ہمارے پاس ٹیسٹنگ کٹس آگئی ہیں ، اب ٹیسٹنگ کی صلاحیت بڑھائیں گے، 500 ٹیسٹ کر رہے ہیں تو 50 مریض سامنے آرہے ہیں۔
شرح اموات 2 اعشاریہ 4 ہوگئی ہے
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ میں اموات کی شرح 2 اعشاریہ 4 ہوگئی ہے، جو بہت تشویشناک ہے، کورونا کے بعض مریضوں کی اسپتال پہنچنے کے 24 گھنٹے میں موت واقع ہوگئی، بعض مریض ایسے بھی آئے کہ انہیں اسپتال مردہ حالت میں پہنچایا گیا۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے ان ہلاک ہوئے افراد کے پھیپھڑے متاثر ہوئے، اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کورونا کے ہی کیسز ہیں، 15 کیسز ایسے ہیں جن کی ہم نے تدفین کورونا کے مریضوں کی طرح کروائی ۔
انہوں نے کہا کہ کچھ ایسی اموات بھی ہیں جو رپورٹ نہیں ہو رہیں، 100 کے قریب اموات ایسی ہیں جن پر کورونا کا شبہ ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ کوروناوائرس سے متاثرہ افراد کی شناخت ظاہر کرنا مناسب نہیں، بہت بڑے بڑے ادارے کے لوگ بھی کوروناسے متاثر ملازم کے نام بتا رہے ہیں، بڑا آدمی ہو تو اپنا نام چھپائے، چھوٹے ملازم کا نام بتادے، یہ ٹھیک نہیں ہے۔
میڈیا کو بھی ڈبل سواری کی اجازت نہیں دینگے
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ اب آئندہ 14 روز صوبے میں لاک ڈائون مزید سخت ہوگا، 5 بجے کے بعد سختی زیادہ کرینگے، میڈیا سمیت کسی کو بھی ڈبل سواری کی اجازت نہیں ہوگی،ڈبل سواری کی اجازت صرف خواتین کے ساتھ ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ صبح 8 سے شام 5 بجے تک لاک ڈاؤن کی پالیسی برقرار رہے گی ۔
انہوں نے کہا کہ مزید سخت لاک ڈائون پر ہم سب میں اتفاق ہوا ہے، کچھ استثناء ہیں، جو کاروبار کھلے گا ان کی ایس او پی ہونگی ، جبکہ ہم نے وفاقی حکومت کو کہا کہ آپ ہمیں ایس او پی دیں تاکہ اس پر اپنا جواب دے سکیں اور پھر ہم نے 4 صفحات کا خط جواب میں لکھا ہے۔
سمجھ نہیں آرہی کنسٹرکشن انڈسٹری کھولنے کی کیا ضرورت ہے؟
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہمیں سمجھ نہیں آرہی کنسٹرکشن انڈسٹری کھولنے کی کیا ضرورت ہے؟ جس پر وزیراعظم نے کہا کہ زراعت کے بعد یہ اہم ہے، کنسٹریکشن کی مینوفیکچرنگ میں سیمنٹ، اسٹیل ملز کو کھولا جائے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبائی حکومت ایس او پی کو پورا کر کے تعمیراتی سائیٹس پر کام شروع ہوگا ، سیمنٹ، بجری، روڑی اور سریا کی صنعت کو اجازت دی جائے گی یہ بھوری رنگ کی صنعت کہلاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں کوئی بلڈر تعمیراتی سائٹ کھولے گا تو اس کو پہلے انتظامیہ سے اجازت لینا ہوگی، لیبر کی تفصیلات مقامی انتظامیہ کو دینا ہونگی کہ وہ کہاں سے آرہی ہیں۔
آٹو موبل انڈسٹری ، ڈومیسٹک فلائٹس ،انٹرا سٹی اور انٹر سٹی ٹرانسپورٹ بند ہوگی
مراد علی شاہ نے بتایا کہ وفاق کی جانب سے آٹو موبل انڈسٹری کھولی جارہی تھی اس پر بھی ہم نے منع کردیا، وفاق نے اس معاملے میں سندھ کےایس او پیز پر آٹو موبل انڈسٹری نہ کھولنے کی بات مانی اور پھر سب نے نہ کھولنے پر اتفاق کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ڈومیسٹک فلائٹس مزید ایک ہفتے نہ کھولنے پر اتفاق ہوا ہے، ٹرانسپورٹ، انٹرا سٹی اور انٹر سٹی بند رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
فیکٹریاں ایس او پی کے تحت کھلیں گی
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ہم نے فیکٹریوں سے متعلق ایس او پی بنائے ہیں جس کے مطابق چیف سیکریٹری فیکٹری والوں سے اجلاس کرے گا، جب تمام طریقہ کارپر ہم مطمئن ہونگے تو فیکٹری کھولنے کی اجازت دینگے۔
ایس او پی کے تناظر میں ملازمین کو فیکٹری تک لانے کیلئے کمپنی اپنی ٹرانسپورٹ چلائےگی، فیکٹری کی گاڑی میں40کی گنجائش ہےتو15سےزائد لوگ نہیں بیٹھ سکتے، فیکٹری والے ملازمین کی لسٹ دینگے جن کو وہ کام پر لے رہیں ہیں۔
اس کے علاوہ ہر انڈسٹری کی بس پر اس کا نام لکھا ہوگا، سماجی دوری کو یقینی بنایا جائے گا، جہاں پر ملازمین زیادہ ہونگے وہاں ڈاکٹر ہوگا، 55 سال سے زیادہ عمر کے ملازمین ڈیوٹی پر نہیں آئیں گے، اگر کوئی مشتبہ ورکر ہوگا تو اس کی فیکٹری والے اپنے خرچے پر ٹیسٹ کرینگے۔
پلمبرز، الیکٹریشن، درزی، حجام کی دکانیں نہیں کھلیں گی
مراد علی شاہ نے کہا کہ کچھ صوبوں کا خیال تھا پلمبرز، الیکٹریشن، درزی، حجام کو کھلنے کی اجازت دی جائے جس پر ہم نے کہا کہ یہ مشکل ہے، آپ خود بتائیں اگر لاک ڈائون ہوگا تو درزی یا نائی کے پاس کون جائے گا؟ اس کے علاوہ ہم بیچ بازار میں چند دکانیں کیسے کھول سکتے ہیں؟ تاہم پھر بھی کچھ کاروبار کھونے پر اتفاق ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پلمبر وغیرہ گھرجاکرکام کرسکیں گےاس کی ایس او پیز بنا رہے ہیں، فیکٹریز پر آنیوالے کو سینی ٹائز کیاجائےگا ،سماجی فاصلے کا خیال رکھاجائے گا ، جبکہ ہر انڈسٹری کے باہر بورڈ پر ایس او پیز لکھے ہوں گے۔
ریسٹورینٹ کی ہوم ڈلیوری ایس او پی کے تحت ہوگی
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کچھ علاقوں میں ہم نرمی کریں گے اس کی ایک ایس او پی ہوگی، چھوٹے ڈابے ٹائپ کے ریسٹوریٹ سے بھی لوگ کھانا لے جا سکتے ہیں، جبکہ ریسٹورینٹ کی ہوم ڈلیوری تب ہوگی جب وہ ایس او پیز کو فالو کرینگے، اگر کوئی ایس او پی کو فالو نہیں کرے گا وہ کاروبار نہیں کھول سکتا۔
انہوں نے کہا کہ کوئی تو وجہ ہے کہ وفاقی حکومت نے 14دن لاک ڈاؤن بڑھایا ہے، لاک ڈاؤن کھولنے نہیں اسے مزید سخت کرنے کی بات ہوئی ہے لہذا اگلے 14 دن لاک ڈاؤن مزید سخت ہوگا۔
صنعتکاروں کے مسائل ہیں حل کرینگے
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ صنعتکاروں کے بھی جو مسائل ہیں حل کرینگے، میں تاجروں کا مشکور ہوں انہوں نے تعاون کیا، میرے وزراء اور میں خود بھی تاجروں سے ملوں گا۔
انہوں نے کہا کہ میں چاہتا تھا کہ لاک ڈائون پہلے ہونا چاہئے تھا اور مزید سخت ہونا چاہئے تھا لیکن تاخیر ہوئی۔
علمائے کرام سے ملاقات کیلئے وزراء کی کمیٹی بنائی ہے
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ وزیراعظم کو میں نے درخواست کی تھی کہ مساجد کو کھولنے پرضرور بات کریں ، میں یہ چاہتا ہوں کہ جو بھی اعلان ہو اس میں علماء کو بھی ایڈریس کیا جائے۔
مراد علی شاہ نے بتایا کہ کل کچھ علمائے کرام نے پریس کانفرنس کی، مجھے ان کے لئے احترام ہے، میں نے وزراء کی کمیٹی بنائی ہے وہ ان سے ملیں گے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کچھ اموات علماء کی بھی کورونا وائرس میں ہوئی ہیں، ان کے جو مسائل ہیں وہ جانتے ہیں بہتر فیصلہ کریں گے ، ہم ان کے تمام مسائل حل کرینگے، سندھ جو کرتا ہے پھر دیگر صوبے اس کی پیروی کرتے ہیں۔
رمضان میں اللہ سے گھروں سے رجوع کریں
مراد علی شاہ نے کہا کہ عوام سے اپیل ہے کہ گھروں میں مزید رہیں، رمضان شریف بھی آ رہا ہے، اس لئے بھی آپ اللہ پاک سے گھروں سے رجوع کریں۔
انہوں نے کہا کہ دعا کریں اللہ پاک ہمیں اس عذاب سے نجات دلائیں گے، اس کے علاوہ جو لوگ کام کیلئے باہر نکلتے ہیں ان کیلئے درخواست ہے کہ جب گھر واپس آئیں تو خود کو جراثیم کش کریں اور اپنے بزرگوں سے نہ ملیں، کیونکہ بزرگوں کو یہ وائرس جلد لگتا ہے ۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ یہ مدد مجھے عوام سے چاہئے، آپ لاک ڈائون کی پابندی کریں، اگر آپ نے ایک زندگی بچائی تو مقصد پوری کائنات کو بچایا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ اللہ پاک نے زندگی بچانے کیلئے ہدایت دی ہے، آپ انسانیت کی خاطر اس لاک ڈائون پر عمل درآمد کریں۔
سپریم کورٹ میں اپنا نکتہ نظر سہی طریقے سے نہ پہنچانے کا اعتراف
وزیراعلیٰ سندھ نے اعتراف کیا کہ ہم سپریم کورٹ میں اپنا نکتہ نظر سہی طریقے سے نہیں پہنچا سکے، مجھے اس پر شرمندگی ہے، مجھے یقین ہے کہ سپریم کورٹ اپنا نکتہ نظر دے گی۔
انہوں نے کہا کہ کچھ چیزیں نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے بولنی پڑیں گی کہ ہمیں ایک بدتمیزی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کچھ لوگ دن رات لگے ہوئے ہیں۔
ہم نے کچھ دن پہلے آرڈ رکیے تھے مگر اس طریقہ سے نہیں ہوسکا، 31 یویسز ڈسٹرکٹ سائوتھ میں ہیں یہ یوسیز صحت کے حساب سے الگ ہیں، کچھ لوگوں نے مزاق اڑایا کہ مجھے نہیں پتہ جس کا مجھے کافی افسوس ہے کیونکہ مجھے آپ لوگوں سے زیادہ پتہ ہے میرے پاس انفارمیشن ہےجس کو میں گفتگو میں ٹھیک طریقے سے ڈیلیور نہیں کر پایا ہوں۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ سندھ میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 133 افراد صحت یاب ہوئےہیں، جبکہ مزید 6 مریضوں کی اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کورونا مریض سندھ کے 268 اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جبکہ تبلیغی جماعت کے 5 ہزار لوگ آئسولیشن میں ہیں، سب کے ٹیسٹ کریں گے اور ٹیسٹ نیگیٹو آنے والوں کو خود گھر پہنچائیں گے۔
ملک میں کورونا کیسز کی شرح دوسرے ملکوں سے کم سمجھنا غلط ہے، وزیر اعلیٰ سندھ
Reviewed by movies dramas and artical
on
April 15, 2020
Rating:
Reviewed by movies dramas and artical
on
April 15, 2020
Rating:


No comments: